کیا پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں ڈیم بن سکتے ہیں؟
پاکستان میں سیلاب اور پانی کے ذخیرے کا سوال: سید سلمان شاہ کا مؤقف
پاکستان میں حالیہ شدید بارشوں اور بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے پانی کی وجہ سے سیلاب نے ایک سنگین صورت حال اختیار کر لی ہے۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی یہی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پاکستان میں بارشوں اور سیلاب کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی مؤثر منصوبہ کیوں نہیں بنایا گیا؟ اس سوال پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سندھ کے ڈائریکٹر جنرل، سید سلمان شاہ نے اپنی رائے دی۔
پانی کے ذخیرے کا متنازعہ سوال
سید سلمان شاہ نے اس سوال کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی سیلاب آتا ہے، یہ سوال فوراً اُٹھنا شروع ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایسٹرن ریور پر اگر پانی کے ذخائر موجود ہوتے، تو شاید سیلاب نہ آتا۔ انہیں یقین ہے کہ ڈیمز کی تعمیر پر بحث ہمیشہ کے لیے جاری رہتی ہے، لیکن اس کا حل اتنا سادہ نہیں۔
ایسٹرن ریورز پر ڈیمز کی تعمیر
سید سلمان شاہ نے واضح طور پر کہا کہ ایسٹرن ریورز پر ڈیمز بنانا عملی طور پر ممکن نہیں۔ ان کے مطابق، ڈیمز ہمیشہ پہاڑی علاقوں میں بنائے جاتے ہیں جہاں پانی کا ذخیرہ ممکن ہو، لیکن پنجاب کے علاقے میدانی ہیں، یہاں اس طرح کے بڑے ڈیمز کی تعمیر کرنا تکنیکی طور پر ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پانی کے ذخیرے کے لیے کچھ چھوٹے چھوٹے ڈیمز پہلے ہی بنائے جا چکے ہیں، جنہیں ورلڈ بینک کے تعاون اور سندھ حکومت کے ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ نے تعمیر کیا ہے۔ ان ڈیمز کا مقصد بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنا ہے تاکہ اس سے زیادہ بہتر استفادہ کیا جا سکے۔
بڑے ذخائر کی ضرورت
سید سلمان شاہ نے کہا کہ بڑے ذخائر بنانے کے لیے کچھ ٹیکنیکل ضروریات ہوتی ہیں، جنہیں پورا کیے بغیر میدانی علاقوں میں بڑے ڈیمز کی تعمیر ممکن نہیں۔ اس لیے ذخیرہ کرنے کے بڑے منصوبے میدانی علاقوں میں عملی طور پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔
نتیجہ
پاکستان میں بارشوں اور سیلابی پانی سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ کے لیے ایک مؤثر حل تلاش کیا جانا ضروری ہے، لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ تمام حل ایک ہی جگہ سے نہیں آ سکتے۔ پانی کے ذخیرے اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بہتر منصوبہ بندی اور حکومتی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ اس قدرتی آفت سے نبرد آزما ہوا جا سکے۔
0 Comments