سیلاب سے سندھ کے 15 اضلاع متاثر ہوں گے، ڈی جی پی ڈی ایم اے



پاکستان میں سیلاب کی صورتحال دن بدن سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ حالیہ بارشوں اور سیلابی پانی کے اثرات نے صوبوں میں تباہی مچائی ہے۔ خاص طور پر سندھ اور پنجاب کی میدانی علاقے اس قدرتی آفت سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ اس حوالے سے ڈی جی پی ڈی ایم اے، سید سلمان شاہ کا اہم بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے سیلاب کی موجودہ صورتحال، حکومت کی اقدامات اور سیلاب سے بچاؤ کے اقدامات کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔

:سندھ میں بندوں کی مضبوطی اور متاثرہ اضلاع

ڈی جی پی ڈی ایم اے سید سلمان شاہ نے کہا کہ سندھ میں کئی بندوں کو مضبوط کر دیا گیا ہے تاکہ سیلاب کی شدت سے بچا جا سکے۔ اس وقت 15 اضلاع سیلاب کی زد میں آ سکتے ہیں، جہاں پانچ سے سات لاکھ افراد کی آبادیاں ہیں۔ ان اضلاع میں سیلابی پانی کی آمد سے لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے بندوں کی مضبوطی نے اس خطرے کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

:پانی کی گنجائش اور سیلاب کا رخ

سید سلمان شاہ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال دریاؤں میں آنے والا پانی ان کی گنجائش سے کم ہے، لیکن جب بند ٹوٹتے ہیں تو تباہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس وقت سیلاب کا رخ بالائی علاقوں سے میدانی علاقوں کی طرف ہو رہا ہے۔ پنجاب شدید سیلاب کی لپیٹ میں ہے اور یہ پانی تیزی سے سندھ کی جانب روانہ ہو رہا ہے۔

:سیلاب کا موازنہ پچھلے سیلاب سے

ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ اس بار سیلاب کی صورتحال گزشتہ سیلابوں سے مختلف ہے۔ گزشتہ سیلاب بارشوں کے باعث تھا، جس میں زیادہ تباہی ہوئی تھی۔ اس بار سیلاب دریاؤں کے ذریعے آ رہا ہے، جو کچھ حد تک ان علاقوں میں کم نقصان کا باعث بن سکتا ہے جہاں بند مضبوط ہیں، مگر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ سیلاب کی شدت کتنی ہوگی۔

:حفاظتی اقدامات اور نقل مکانی

سیلاب کی شدت سے نمٹنے کے لیے حکومت نے متعدد حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔ سید سلمان شاہ نے بتایا کہ تمام ادارے ہائی الرٹ ہیں اور بندوں کے قریب آباد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی انسانی نقصان سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پانی کے راستے کو سنبھالنے اور سمندر میں اتارنے کے لیے تمام ادارے تعاون کر رہے ہیں۔

:میدانی اور پہاڑی علاقوں میں فرق

سیلاب کے اثرات کو کم کرنے کے لیے، سندھ اور پنجاب کے میدانی علاقوں میں پانی کو ذخیرہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، پہاڑی علاقوں میں پانی ذخیرہ کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، جہاں دریا کے قدرتی راستوں میں زیادہ گنجائش ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے سیلابی پانی میدانی علاقوں میں زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔

:نتیجہ

پاکستان کے مختلف حصوں میں سیلاب کے اثرات واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ سندھ اور پنجاب میں سیلاب کی شدت بڑھ رہی ہے، اور حکومت تمام وسائل کو بروئے کار لا رہی ہے تاکہ عوام کو محفوظ رکھا جا سکے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے سید سلمان شاہ نے سیلاب سے نمٹنے کے حوالے سے اہم اطلاعات فراہم کی ہیں، جو اس قدرتی آفت کے دوران اہمیت رکھتی ہیں۔ تاہم، اس وقت ہمیں سب کو مل کر اس بحران کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نقصان کو کم کیا جا سکے



Post a Comment

0 Comments